یہ اور بات کہ ___ آگے ہوا کے رکھے ہیں چراغ رکھے ہیں جتنے جلا کے رکھے ہیں نظر اٹھا کے __ انہیں ایک بار دیکھ تو لو ستارے پلکوں پہ ہم نے سجا کے رکھے ہیں کریں گے _ آج کی شب کیا یہ سوچنا ہوگا تمام کام تو ____ کل پر اٹھا کے رکھے ہیں کسی بھی شخص کو اب ایک نام یاد نہیں وہ نام سب نے جو مل کر خدا کے رکھے ہیں انہیں فسانے کہو ___ دل کی داستانیں کہو یہ آئینے ہیں جو کب سے سجا کے رکھے ہیں خلوص درد _________ محبت وفا رواداری یہ نام ہم نے _____ کسی آشنا کے رکھے ہیں تمہارے __ در کے سوالی بنیں تو کیسے بنیں تمہارے در پہ ___ تو کانٹے انا کے رکھے ہیں
اب مرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو میں نے مانا کہ تم اک پیکر رعنائی ہو چمن دہر میں روح چمن آرائی ہو طلعت مہر ہو فردوس کی برنائی ہو بنت مہتاب ہو گردوں سے اتر آئی ہو مجھ سے ملنے میں اب اندیشۂ رسوائی ہے میں نے خود اپنے کیے کی یہ سزا پائی ہے خاک میں آہ ملائی ہے جوانی میں نے شعلہ زاروں میں جلائی ہے جوانی میں نے شہر خوباں میں گنوائی ہے جوانی میں نے خواب گاہوں میں جگائی ہے جوانی میں نے حسن نے جب بھی عنایت کی نظر ڈالی ہے میرے پیمان محبت نے سپر ڈالی ہے ان دنوں مجھ پہ قیامت کا جنوں طاری تھا سر پہ سرشارئ عشرت کا جنوں طاری تھا ماہ پاروں سے محبت کا جنوں طاری تھا شہریاروں سے رقابت کا جنوں طاری تھا بستر مخمل و سنجاب تھی دنیا میری ایک رنگین و حسیں خواب تھی دنیا میری جنت شوق تھی بیگانہ آفات سموم درد جب درد نہ ہو کاوش درماں معلوم خاک تھے دیدۂ بیباک میں گردوں کے نجوم بزم پرویں تھی نگاہوں میں کنیزوں کا ہجوم لیلیٰ ناز برافگندہ نقاب آتی تھی اپنی آنکھوں میں لیے دعوت خ...
Comments
Post a Comment