یہ اور بات کہ ___ آگے ہوا کے رکھے ہیں چراغ رکھے ہیں جتنے جلا کے رکھے ہیں نظر اٹھا کے __ انہیں ایک بار دیکھ تو لو ستارے پلکوں پہ ہم نے سجا کے رکھے ہیں کریں گے _ آج کی شب کیا یہ سوچنا ہوگا تمام کام تو ____ کل پر اٹھا کے رکھے ہیں کسی بھی شخص کو اب ایک نام یاد نہیں وہ نام سب نے جو مل کر خدا کے رکھے ہیں انہیں فسانے کہو ___ دل کی داستانیں کہو یہ آئینے ہیں جو کب سے سجا کے رکھے ہیں خلوص درد _________ محبت وفا رواداری یہ نام ہم نے _____ کسی آشنا کے رکھے ہیں تمہارے __ در کے سوالی بنیں تو کیسے بنیں تمہارے در پہ ___ تو کانٹے انا کے رکھے ہیں
Good
ReplyDelete