Posts

Showing posts from October, 2023

تری نگاہ نے ظالم کبھی ہے یہ سوچا تری نگاہ کے ماروں کا حال کیا ہوگا

 سحر قریب ہے تاروں کا حال کیا ہوگا  اب انتظار کے ماروں کا حال کیا ہوگا  تری نگاہ نے ظالم کبھی ہے یہ سوچا  تری نگاہ کے ماروں کا حال کیا ہوگا  مقابلہ ہے ترے حسن کا بہاروں سے  نہ جانے آج بہاروں کا حال کیا ہوگا  نقاب ان کا الٹنا تو چاہتا ہوں مگر  بگڑ گئے تو نظاروں کا حال کیا ہوگا  مذاق دید ہی صہباؔ اگر بدل جائے  تو زندگی کی بہاروں کا حال کیا ہوگا

ہے میری حسرت و ارماں ذرا ٹھہر جائو

 فنا کے بعد بھی مجھ کو ستا رہا ہے کوئی  نشان قبر کا میری.... مٹا رہا ہے کوئی میرے خدا مجھے تھوڑی سی زندگی دے  اداس میرے جنازے سے جا رہا ہے کوئی   ہے میری حسرت و ارماں ذرا ٹھہر جائو کہ بے نقاب تصور میں آ رہا ہے کوئی  اندھیری رات کے تارو نہ جھلملائو تم  خدائی سو گئی آنسو بہا رہا ہے کوئی  "فرشتو عرش سے لالہ کے پھول برسائو ~قمر~کی قبر کو دلہن بنا رہا ہے کوئی... استاد قمر جلالوی

Urdu poetry

 یار اسے  کوئی  قصہ  یوسف  سناؤ وہ کھو نہ دے مجھے اپنوں کی باتوں مئں آ کر