اب مرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو
اب مرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو میں نے مانا کہ تم اک پیکر رعنائی ہو چمن دہر میں روح چمن آرائی ہو طلعت مہر ہو فردوس کی برنائی ہو بنت مہتاب ہو گردوں سے اتر آئی ہو مجھ سے ملنے میں اب اندیشۂ رسوائی ہے میں نے خود اپنے کیے کی یہ سزا پائی ہے خاک میں آہ ملائی ہے جوانی میں نے شعلہ زاروں میں جلائی ہے جوانی میں نے شہر خوباں میں گنوائی ہے جوانی میں نے خواب گاہوں میں جگائی ہے جوانی میں نے حسن نے جب بھی عنایت کی نظر ڈالی ہے میرے پیمان محبت نے سپر ڈالی ہے ان دنوں مجھ پہ قیامت کا جنوں طاری تھا سر پہ سرشارئ عشرت کا جنوں طاری تھا ماہ پاروں سے محبت کا جنوں طاری تھا شہریاروں سے رقابت کا جنوں طاری تھا بستر مخمل و سنجاب تھی دنیا میری ایک رنگین و حسیں خواب تھی دنیا میری جنت شوق تھی بیگانہ آفات سموم درد جب درد نہ ہو کاوش درماں معلوم خاک تھے دیدۂ بیباک میں گردوں کے نجوم بزم پرویں تھی نگاہوں میں کنیزوں کا ہجوم لیلیٰ ناز برافگندہ نقاب آتی تھی اپنی آنکھوں میں لیے دعوت خ...