Posts

Showing posts from December, 2023

اب مرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو

 اب مرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو میں نے مانا کہ تم اک پیکر رعنائی ہو  چمن دہر میں روح چمن آرائی ہو  طلعت مہر ہو فردوس کی برنائی ہو  بنت مہتاب ہو گردوں سے اتر آئی ہو  مجھ سے ملنے میں اب اندیشۂ رسوائی ہے  میں نے خود اپنے کیے کی یہ سزا پائی ہے  خاک میں آہ ملائی ہے جوانی میں نے  شعلہ زاروں میں جلائی ہے جوانی میں نے  شہر خوباں میں گنوائی ہے جوانی میں نے  خواب گاہوں میں جگائی ہے جوانی میں نے  حسن نے جب بھی عنایت کی نظر ڈالی ہے  میرے پیمان محبت نے سپر ڈالی ہے  ان دنوں مجھ پہ قیامت کا جنوں طاری تھا  سر پہ سرشارئ عشرت کا جنوں طاری تھا  ماہ پاروں سے محبت کا جنوں طاری تھا  شہریاروں سے رقابت کا جنوں طاری تھا  بستر مخمل و سنجاب تھی دنیا میری  ایک رنگین و حسیں خواب تھی دنیا میری  جنت شوق تھی بیگانہ آفات سموم  درد جب درد نہ ہو کاوش درماں معلوم  خاک تھے دیدۂ بیباک میں گردوں کے نجوم  بزم پرویں تھی نگاہوں میں کنیزوں کا ہجوم  لیلیٰ ناز برافگندہ نقاب آتی تھی  اپنی آنکھوں میں لیے دعوت خ...