Posts

اب مرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو

 اب مرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو میں نے مانا کہ تم اک پیکر رعنائی ہو  چمن دہر میں روح چمن آرائی ہو  طلعت مہر ہو فردوس کی برنائی ہو  بنت مہتاب ہو گردوں سے اتر آئی ہو  مجھ سے ملنے میں اب اندیشۂ رسوائی ہے  میں نے خود اپنے کیے کی یہ سزا پائی ہے  خاک میں آہ ملائی ہے جوانی میں نے  شعلہ زاروں میں جلائی ہے جوانی میں نے  شہر خوباں میں گنوائی ہے جوانی میں نے  خواب گاہوں میں جگائی ہے جوانی میں نے  حسن نے جب بھی عنایت کی نظر ڈالی ہے  میرے پیمان محبت نے سپر ڈالی ہے  ان دنوں مجھ پہ قیامت کا جنوں طاری تھا  سر پہ سرشارئ عشرت کا جنوں طاری تھا  ماہ پاروں سے محبت کا جنوں طاری تھا  شہریاروں سے رقابت کا جنوں طاری تھا  بستر مخمل و سنجاب تھی دنیا میری  ایک رنگین و حسیں خواب تھی دنیا میری  جنت شوق تھی بیگانہ آفات سموم  درد جب درد نہ ہو کاوش درماں معلوم  خاک تھے دیدۂ بیباک میں گردوں کے نجوم  بزم پرویں تھی نگاہوں میں کنیزوں کا ہجوم  لیلیٰ ناز برافگندہ نقاب آتی تھی  اپنی آنکھوں میں لیے دعوت خ...

تری نگاہ نے ظالم کبھی ہے یہ سوچا تری نگاہ کے ماروں کا حال کیا ہوگا

 سحر قریب ہے تاروں کا حال کیا ہوگا  اب انتظار کے ماروں کا حال کیا ہوگا  تری نگاہ نے ظالم کبھی ہے یہ سوچا  تری نگاہ کے ماروں کا حال کیا ہوگا  مقابلہ ہے ترے حسن کا بہاروں سے  نہ جانے آج بہاروں کا حال کیا ہوگا  نقاب ان کا الٹنا تو چاہتا ہوں مگر  بگڑ گئے تو نظاروں کا حال کیا ہوگا  مذاق دید ہی صہباؔ اگر بدل جائے  تو زندگی کی بہاروں کا حال کیا ہوگا

ہے میری حسرت و ارماں ذرا ٹھہر جائو

 فنا کے بعد بھی مجھ کو ستا رہا ہے کوئی  نشان قبر کا میری.... مٹا رہا ہے کوئی میرے خدا مجھے تھوڑی سی زندگی دے  اداس میرے جنازے سے جا رہا ہے کوئی   ہے میری حسرت و ارماں ذرا ٹھہر جائو کہ بے نقاب تصور میں آ رہا ہے کوئی  اندھیری رات کے تارو نہ جھلملائو تم  خدائی سو گئی آنسو بہا رہا ہے کوئی  "فرشتو عرش سے لالہ کے پھول برسائو ~قمر~کی قبر کو دلہن بنا رہا ہے کوئی... استاد قمر جلالوی

Urdu poetry

 یار اسے  کوئی  قصہ  یوسف  سناؤ وہ کھو نہ دے مجھے اپنوں کی باتوں مئں آ کر 

Urdu poetry

Image
 

Gham

Image
 

Judaey

" اس سے پہلے کہ جدائی کی خبر تم سے ملے  ہم نے سوچا ہے کہ ہم تم سے بچھڑ جائیں گے