ہے میری حسرت و ارماں ذرا ٹھہر جائو

 فنا کے بعد بھی مجھ کو ستا رہا ہے کوئی 

نشان قبر کا میری.... مٹا رہا ہے کوئی


میرے خدا مجھے تھوڑی سی زندگی دے 

اداس میرے جنازے سے جا رہا ہے کوئی  


ہے میری حسرت و ارماں ذرا ٹھہر جائو

کہ بے نقاب تصور میں آ رہا ہے کوئی 


اندھیری رات کے تارو نہ جھلملائو تم 

خدائی سو گئی آنسو بہا رہا ہے کوئی 


"فرشتو عرش سے لالہ کے پھول برسائو

~قمر~کی قبر کو دلہن بنا رہا ہے کوئی...


استاد قمر جلالوی

Comments

Popular posts from this blog

Ghazall